اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق شام کی الوحدہ پبلشنگ ادارے کے ڈائریکٹر جنرل "خلف المفتاح" نے شام کا بحران اندرونی سطح پر حل کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جو لوگ شام کا بحران حل کرنے کی خواہش رکھتے ہیں انہيں تیونس، انقرہ، دوحہ یا نیویارک کا نہیں بلکہ دمشق کا دورہ کرنا چاہئے۔
انھوں نے فرینڈز آف سیریا کی تیونس کانفرنس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: یہ شام کے دوستوں کی نہیں بلکہ امریکہ اور اسرائیل کے دوستوں اور ملت شام کے دشمنوں کی کانفرنس تھی۔
انھوں نے کہا: سعودی ارب اور قطر نے شام میں مسلح گروپوں کو تقویت پہنچانے کی تجویز پیش کی ہے، وہ شام میں فوجی مداخلت اور اس ملک کی حکومت کا تختہ الٹنے کی خواہش رکھتے ہیں گوکہ وہ اب تک ہزار کوششوں کے باوجود ایسا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
انھوں نے کہا: امریکہ تشہیراتی کمپنیوں کے ذریعے شام کو غیر مستحکم کرنے میں مصروف ہے لیکن وہ شام میں فوجی مداخلت سے عاجز ہے کیونکہ امریکہ کو فوجی مداخلت کا بہت بھاری تاوان ادا کرنا پڑے گا اور واشنگٹن بہت بھاری شکست کھائے گا۔
انھوں نے کہا: امریکہ محض شام کے نظام حکومت کی سرنگونی ہی نہیں چاہتا بلکہ علاقے میں اپنے منصوبوں پر عملدرآمد کرنا چاہتا ہے۔
.......
/169-110
تفصیل کے لئے رجوع کیجئے:
شام: آل سعود کے ہاتھ شامیوں کے خون میں ڈوبےہوئے ہیں؛ شام کے خلاف آل سعود کی سازش